صحرائے کاچھو کا مختصر تاریخ

دوستو آج مئیں آپ لوگوں کو کاچھو کے بارے میں جانکاری شیئر کرتا ہوں کاچھو پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائے تھر کے بعد دوسرا بڑا صحرا ہے جو ضلعہ دادو سے لیکر شمال میں ضلعہ قمبر شہدادکوٹ تک اور آگے ضلعہ جیکب آباد تک پھیلا ہئا ہے کاچھو لفظ کا پس منظر کاچھو سندھی زبان کا لفظ کچھ میں سے ہے جس کا مطلب بغل Lap Or Armpit ‎ہے یے صحرا کھیرتھر پہاڑی سلسلہ کے قریب تر ہے اس وجہ سے اسے کاچھو کہا گیا ہے یعنی وؤ کھیر تھر پہاڑ کے بغل میں ہے دوسری اعطبار سے پہاڑ کے کچھ میں ہے یے کافی بڑا علائقہ ہے اس لیئے اسے کچھ نہیں بلکے کاچھو کہا جاتا ہے صحرائے کاچھو دریاء سندھ کے ایک بڑی نہر یا شاخ کے بہاؤ کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا قدیم زمانے میں دریاء سندھ کی ایک بڑی نہر کندھ کوٹ سے حمل جھیل تک اور وہاں سے لاڑکانہ کے مغرب میں بہتی ہئی ضلعہ دادو سے گذرتی منچھر جھیل میں پڑتی تھی منچھر جھیل سے مشرق کی طرف مڑ کر سیہون شہر کے جنوب میں دوبارا دریاء سندھ سے جاکر ملتی تھی دوستو کاچھو اور منچھر جھیل دریاء سندھ کی اس قدیم اور بڑی نہر کی تیز بہاؤ کی نتیجے میں وجود میں آئے ‎یے بحث تفصیل سے عطا محمد بھنبھرو کی ترجمہ کردہ راورٹی کی کتاب سندھ جو مھراٹ میں بھی موجود ہے کاچھو کے صحرا کے چار طرف علائقے مغرب میں کھیرتھر پہاڑی سلسلہ ہے مشرق میں ایف پی بند Flood Protecion Band ‎ہے جنوب میں منچھر جھیل ہے اور شمال میں جیکب آباد اور بلوچشتان کے علائقے کچھی کا صحرائے علائقہ ہے دوستو کاچھو کے اھم برساتی نالے جو بارشوں میں کھیرتھر پہاڑی سلسلہ میں سے برساتی نالے کاچھو کے طرف بہتے ھیں اور کاچھو کو سیلاب سے کافی متاثر کرتے ہیں جھل منگسی نئے مولا سالاری گاج نالی ککڑانی ہلیلی کھندھانی انگئی نئیگ اور دوسری برساتی نالی بہتے ھیں دوستو وھاں کے رہواسی لوگ زیادہ تر سرائکی زبان بولتے ھیں اور وہاں کے لوگوں کا گذران بارانی زمینوں پر ہے اگر بارش ھوتا ہے تو وھاں کے بارانی زمین آباد کرتے ھیں اگر کچھ سال برسات نہیں برستے تو کاچھو خشک اور سوکا ھو جاتا ہے اور پھر یے کاچھو خانے کو آجاتا ہے تو پھر کچھ لوگ نقل مقانی کرتے ھیں اور کچھ ہنرمند لوگ بان پر گذارا کرتے ھیں بان ایک پیش نامی پودہ سے تیار کیا جاتا ہے پیش کی پتے کھجور کے پتے جیسے مگر تھوڑے لمبے ھوتے ھیں انکو کاٹ کر سکا کر پھر کوٹ کوٹ کر پانی میں بھگا دیا جاتا کچھ گھنٹوں کے بعد وو پیش بلکل نرم اور بالوں کی ماند چھوٹے سے ھوجاتے ھیں پھر اس سے بان بناتے ھیں بان چار پائے میں استمعال ھوتا ہے دوستو قدیم زمانہ سے لیکر پھچلے کچھ سالوں تک وھاں کے لوگ سوکا موسموں کی وجہ سے کافی دور دراز علائقوں تک نقل مقانی کرتے تھے مگر اب وھاں کچھ کچھ کامیاب ٹیوب ویل بننے شروع ھو گئے ھیں اس کی وجہ سے وھاں کھیتوں میں آبادی ہونا شروع ھو گیا ہے اب وؤ لوگ نقل مقانی کم کرتے ھیں کاچھو کے چھوٹے شہر پٹ گل محمد راجا گنڈھا واھی پاندھی حاجی خان حیرو خان اور دوسرے اسٹاپ ھیں دوستو آگسٹ 2020 میں کھیرتھر پہاڑی سلسلہ سے کاچھو میں ایک اور بڑا پانی سیلاب آیا تھا اس کی وجہ سے کاچھو کے مختلف روڈ اور موری وغیر بڑے پیمانے تک ٹوٹ پھوٹ شکار ہو گئے ہیں جب کے اب انکا تھوڑا تھوڑا آہستہ آہستہ مرامت شروع ھو چکا ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قلعہ رنی کوٹ کی مختصر تاریخ

رنی کوٹ کی تازہ ترین صورتحال