قلعہ رنی کوٹ کی مختصر تاریخ

دوستو قلعے قوموں کے پناہ گاہوں کے نشان ہوتے ھیں تاریخ گواہ ہے کے جب بھی کسی ریاست پر حملا ہئا حکمران وقت نے قلعہ بند ہوکر بیرونی سازش کا مقابلا کیا سندھ بر صغیر میں وہ واحد ریاست تھا جو ماضی بعید میں کئی بار بیرونی حملوں کا نشانہ رہا ہے جس کی وجہ سے آج بھی سندھ میں کئی قدیمی قلعے موجود ھیں رنی کوٹ کا قلعہ بھی ان قلعوں میں سے ایک ہے رنی کوٹ قلعہ کو عظیم دیوار سندھ The Great Wall of Sindh ‎بھی کہا جاتا ہے یے قلع رنی کوٹ تاریخ کے اعتبار سے دنیا کا سبھ سے بڑا عجوبہ کا حیثیت بھی رکھتا ہے دوستو رنی کوٹ قلع پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو کے ریلوی اسٹیشن سن سے 32 کلومیٹر مغرب کی جانب کھیر تھر پہاڑی سلسلہ میں واقع موجود ہے دوستو اس قلعے کے پانچ مشہور دروازے ہیں سن گیٹ آمری گیٹ موہن گیٹ شاھ جو پیر گیٹ اور ہنج پہاڑ کی چوٹی پر ایک چحوٹہ سا گیٹ جسے ہنج گیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے اس قلعے کی شکل چوکورنما ہے اور یے 45 مربع میل کے علائقے پر پھیلا ہئا ہے اس قلعے کو 1784ء پھر 1843ء میں ٹالپوروں کے میروں نے از سر نو تعمیر کروایا تھا میر سندھ کے حکمرانو کا خطاب تھا آمری گیٹ رنی کوٹ قلعے کی آخری حد کہلاتا ہے اس گیٹ سے داخل ہو کر اہل علائقہ قلع بند ہو جایا کرتے تھے قلعے سے 40 کلومیٹر فاصلے پر شمال مشرق کی جانب سندھ کا ایک قدیمی گائوں آمری واقع ہے جو اب بھی ایک چھوٹے سے گائوں کی شکل میں آباد ہے رنی کوٹ قلعے کے اندر مزید 3 چھوٹے قلعے موجود ھیں میری قلع موہن قلع صحر گاہ یا شیرگڑھ قلع صحرگاہ میں علائقے کے حکمران پناہ لیتے تھے جو پہاڑوں کی اونچائیوں پر واقع ہے وھاں پر دشمن کا پہنچنا بہت دشوار ہوتا تھا صحر گاہ قلعے کے اندر پانی کا زخیرہ کرنے کے لیئے ایک وسیہ تالاب تھا جو امتداد زمانہ کے باعث ٹوٹ پھوٹ چکا ہے تاہم بارشوں کا پانی اب بھی اچھی خاصی مقدار میں اس کے اندر جمع ہوتا ہے اس قلعے کی تعمیر کے بارے میں بہت سی قیاص آرعیاں ہیں مگر یے بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کے قلع رنی کوٹ کی بنیاد کسنے اور کب رکھی تھی اور کس دشمن سے بچنے کے لیئے رکھی تھی ‏ چونکے یے معلومات تاریخ کے عوراق میں دفن ہو چکے ھیں شاید ہمیشہ کے لیئے تاہم محکمہ آثارقدیمہ کی کھدائی کے دوران ملنے والے اشارات سے پتا چلتا ہے کے یے دو ہزار سال سے بھی بہوت پہلےتعمیر کیا گیا تھا مگر حیرانی کی بات یے ہے کے اس قلعے کا ذکر تاریخ میں صرف اس وقت سے ملتی ہے جب میرپورخاص کے میر شیرمحمد ٹالپور نے 18ویں صدی عیسوی میں اس قلعے کی مرامت کروائی اور اس قلعے میں ایک اور چھوٹے قلعے میری قلع میں رہائش اختیار کی تھی قلع رنی کوٹ کے کھنڈر پر نظر پڑتے ہی انسان حیرت میں کھو جاتا ہے پہاڑوں کے درمیان واقع یے قلع بالکل دیوار چین کی ماند تھا یے اندازہ لگانا مشکل ہے کے‎ ‎چونے کے پتھر سے تعمیر ہونے والے اس قلع پر کتنی لاگت آئی ہوگی کھنڈرات سے پتا چلتا ہے کے امارات خاصی عظیم رہی ہوگی رنی کوٹ قلع کے سن گیٹ کے بالکل سامنے دریاء رنی واقع ہے جو سال کے بیش تر حصہ خشک ہی رہتا ہے اور صرف برسات میں ہی بہتا ہے اس دریاء رنی پر کبھی کسی زمانے میں ایک مضبوط پل ہئا کرتا تھا جسے پانی کا ریلا بہا کر لے گیا تھا عظیم یونانی کیورٹس رعافس نے اپنی کتاب میں اس قلعے کا ذکر کیا ہے اور اس قلع کی تفصیل بھی بیان کی ہے جب سکندر اعظم نے قلعے کا سہ روزہ محاصرا کیا تھا یاد رہے کے مقامی بادشاہ اپنی رعایا کے ساتھ اس قلع میں پناہ گزین ہو گیا تھا سکندراعظم قلع کو ٹوڑتے ہئے اور قتل عام کرتے ہئے آگے بڑہ گیا تھا قلعے میں واقع بچی کھچی دیواروں پر قدیم لکھائی کے آثار ہیں کھنڈر کی حالات دیکھ کر یے اندازہ ہوتا ہے کے تعمیر کے لیئے میٹیریل کہیں اور جگہ سے لایا گیا تھا قلع کے اندر داخل ہوتے ہی بالکل سامنے ستوپا نما برج ہےجو مقامی طرز تعمیر کی غمازی کرتا ہے تھوڑا سا آگے بڑھیں تو دائیں حصے میں ایک مسجد کے آثار ہیں اس کے میناروں اور گنبد کے بعز حصے شہید ہو چکے ھیں اس قلعے کے متعلق بے شمار کہانیاں بھی مشہور ھیں بعض کے مطابق کہا جاتا ہے حضرت سلیمان ع کے دور میں یے قلع جنوں کا مسکن رہا ہے یے بات شبہ سے بالا تر ہے قلع رنی کوٹ 1784ء حیدرآباد کے ٹالپور میر خاندان کے زیر نگین رہا ہے اس خاندان نے اس قلعے کی از سر نو تعمیر کے لیئے بڑی کاوشیں کی ہیں یوں معلوم ہوتا ہے انہیں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طاقت کا اندازہ ہو چکا تھا تاہم قسمت نے ٹالپور خاندان کا ساتھ نہ دیا اور 17 فروری 1843ء کو انگریزوں کے ساتھ آتش ؤ آہیں کی جنگ کے بعد انہیں پسپا ہونا پڑا اور یوں یے قلع انگریزوں کے میں آ گیا تھا ایک وؤ وقت تھا جب قلع رنی کوٹ فوجیوں کے بھاری بوٹوں کی آوازوں سے مانوس تھا مگر اب وہاں شہ زو نادر ہی کوئی شخس جاتا ہے اور یے بالکل ویران حالت میں پڑا ہے کبھی اس قلع کی راتیں جاگتی تھیں اب وھاں دن کے وقت بھی راتوں کی طرح اندھیرا بسا رہتا ہے قدیم پہاڑوں کے درمیان واقع قلع رنی کوٹ تاریخ کا ایک خاموش گواہ ہے اگر اس کی خاموشی کسی تور ٹوٹ جائے تو یے لازمہ ماضی کی ان گنت شان ؤ شوکت کی داستانیں بیان کرے گی یے ان بہادروں کے کارناموں کو ضرور اجاگر کریگا جنہونے اپنے وطن عزیز کی حفاظت کے لیئے جان جان آفرین کے سپرد کر دی تھی دوستو
اس قلعے کا احطا تقریبنا 26 کلومیٹر 16 میل ہے ‏1993ء سے یے یونیسکو کی معجوزہ عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل ہے اور یاد رہے کے یے قلع رنی کوٹ اصل نام تین چیزوں سے بنا ہے جو اس قلع کے اندر آج بھی موجود ھیں نہر جسے سندھی میں نئیں کہتے ہیں نالی جسے سندھی میں رونی کہتے ہیں کوٹ جسے سندھی اردو کوٹ کہتے ہیں پھر عربوں نے ان تینوں چیزوں کو ملا کر اپنے حساب کتاب میں نئیں رون کوٹ لکھا تھا پھر عرطقہ کے عمل میں آہستہ آہستہ یے نام رانی کوٹ رنی کوٹ میں مشہور ہو گیا رنی کوٹ قلع کے اندر آباد قوم روستمانی بلوچ اور گبول بلوچ ہیں دوستو رنی کوٹ قلع میں بجلی اسکول ہوسپیٹل وغیرہ آج تک نہیں پہنچا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رنی کوٹ کی تازہ ترین صورتحال